ابنا: امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن پشاور ڈویژن کے زیر اہتمام یوم حسین بعنوان ”امام حسین(ع) نجات دہندہِ بشریت” کا انعقاد کیا گیا جس میں علماء کرام اسلامک سکالرز اور پروفیسر صاحبان کے علاوہ اہل سنت اور اہل تشیع کے سینکڑوں طلباء وطالبات نے شرکت کی ۔سیمینار میں یونیورسٹی کے مختلف طلباء تنظیموں نے بھی شرکت کی پرل لان پشاور یونیورسٹی میں منعقدہ سیمینار سے علامہ عابد حسین شاکری (پرنسپل جامعہ شہید)،ڈاکٹر عبدالرحمن قادری(پاکستان سنی تحریک)،ڈاکٹر شبیر گیلانی(پاکستان تحریک منہاج القرآن)،، کے پیش امام علامہ ارشاد حسین خلیلی (امام مسجد کوچہ رسالدار)،پروفیسرڈاکٹر دوست محمدخان(ڈائیریکٹر شیخ زائداسلامک سنٹر،پشاور یونیورسٹی)،علامہ سیدمحمد سبطین(صوبائی رہنما مجلس وحدت المسلیمین ) ضمیر جعفری(ڈویژنل صدرپشاور آئی ایس او پاکستان ) اپنے خطاب میں کہا کہ مسلمانوں کو درپیش تمام تر مسائل کا حل عالم اسلام کو اتحاد میں مضمر ہے پاکستان،افغانستان،عراق،فلسطین،شام،لبنان،اور دوسرے اسلامی ممالک کی بد حالی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں نے حضرت امام حسین کے عظیم مشن کو پس پشت ڈال دیا ہے جبکہ مسلمان حکمران طاغوتی قوتوں کے پیروہوگئے ہیں اور اگر مسلمان اسلام دشمنوں کے ہاتھوں تقسیم ہوکر تباہ و برباد ہونا نہیں چاہتی تو ہمیں ایک دوسرے کو برداشت کرنا ہوگا اور فرقہ واریت کا خاتمہ کرنا ہوگا انہوں نے کہا کہ شہادت امام حسین کی یاد منانا عظیم کام ہے اور اسی جذبہ حسینیت نے ہی ہمیشہ یزید وقت کو للکارا ہے۔آئی ایس او پشاور ڈویژن کے صدر ضمیر جعفری نے کہا کہ یومِ حسین(ع) منانا پیغمبر کی سنّت کو زندہ کرنا ہے۔اس کا مقصد وصیت حضرت امام حسین(ع) پر عمل کرتے ہوئے امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکے ذریعے یزیدِوقت کے خلاف لوگوں کی بیداری اور اتفاق و اتحاد اور یکجہتی کو فروغ دینا اور تعلیم کے ذریعے اس کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانا ہے۔ تحریک کربلا صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ آئین زندگی ہے اور ہر دور کے مسلمانوں کے تما م مسائل اور عصر حاضر میں مسلمانوں کی بد حالی کی وجہ تحریک کربلا اور مقصد کربلا سے دوری ہے انہوں نے کہا کہ جب تک مسلمانان عالم تعصب کی عینک اتار کر نظریہ حسینیت پر متفق نہیں ہوتے تب تک استعمار کے تسلط سے نکلنا ممکن نہیں ۔




.......
/169